Urdu
مفت قانونی مدد کی درخواست نامنظور ھوجانے کے خلاف کی جانے والی اپیلوں پر کاروائی کرنا جسٹس سیکریٹیریٹس کا کام ہے۔ صرف ان کیسوں میں اپیلوں پر کاروائی کی جاتی ہے جو قانونی مدد کے قانون § 26 کے تحت آتے ھوں یعنی ریجنل کمیشنروں (fylkesmennene) اور ریجنل عدالتی کمیٹیوں (fylkesnemdene) کی جانب سے درخواست نامنظور کیے جانے پر اپیل۔ قانونی مدد کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے پر بالا عدالت کو اپیل دی جاۓ۔ جسٹس سیکریٹیریٹس فیس کے قواعد § 13 حصہ دوم کے زمرے میں آنے والی اپیلوں پر بھی کاروائی کرتی ہیں یعنی جن فیسوں کا تعین کسی عدالت نے نہ کیا ھو، ان تمام فیسوں کے خلاف اپیلیں نمٹاتی ہیں۔ قانونی مدد اور فیس کے کیسوں پر کاروائی میں تقریبا 4 ہفتے لگتے ہیں۔
اس نظام کے بارے میں عمومی معلومات
قانونی مدد کے نظام کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو خود قانونی مدد کے اخراجات ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ 13 جون 1980 کا قانون بسلسلہ مفت قانونی مدد (rettshjelpsloven) اور 12 دسمبر 2005 کے قواعد بسلسلہ قانونی مدد(rettshjelpsforskriften) اس نظام کا احاطہ کرتے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کے سرکلر G-12/05 میں بھی مفت قانونی مدد کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئ ہیں۔
قانونی مدد کا قانون ان دوسرے نظاموں کی جگہ لاگو ھوتا ہے جو قانونی مدد کے اخراجات ادا کرتے ہیں یا اخراجات کرنے والے شخص کو بعد میں رقم واپس دلاتے ہیں یعنی مفت قانونی مدد کی درخواست دینے سے پہلے ہمیشہ یہ پتہ کرنا ضروری ہے کہ آیا کسی دوسرے نظام کے تحت مدد مل سکتی ہے۔ عام طور پر سرکاری دفاتر کا فرض ھوتا ہے کہ وہ رابطہ کرنے والے لوگوں کو کسی نہ کسی حد تک معلومات دیں۔ چونکہ قانونی مدد کا سرکاری نظام دوسرے نظاموں کے اطلاق نہ پانے کی صورت میں لاگو ھوتا ہے لہذا اگر کسی سرکاری دفتر سے رابطہ کر کے مدد مل سکتی ھو تو اس صورت میں مفت قانونی نہیں دی جاۓ گی۔ یہی اصول اس مدد کے سلسلے میں بھی ہے جو تعزیری مقدمات کے قانون کے تحت ملزم اور مدعی کو وکیل دلا کر مہیا کی جا سکتی ھو، قانون انتظامیہ § 36، مشاورتی دفاتر اور ٹریڈ یونینز، دیکھیۓ قانونی مدد کا قانون § 5۔
مفت قانونی مدد مفت قانونی مشورے کی صورت میں یا مقدمے کی مفت کاروائی کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔ مفت قانونی مشورہ بنیادی طور پر ایسی مدد ہے جو عدالتی نظام سے باہر ملتی ہے تاہم مقدمے کی مفت کاروائی کیلۓ مدد کا آغاز مقدمے کی رٹ جاری ھونے کے بعد سے ھوتا ہے۔ عام اصول یہ ہے کہ صرف فزیکل پرسنز یعنی افراد ہی کو یہ مدد مل سکتی ہے۔
مفت قانونی مدد کون فراہم کر سکتا ہے
قانون کی پریکٹس کرنے والے تمام وکلاء مفت قانونی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ مفت قانونی مشورہ قانونی معاونین (rettshjelpere) بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ بعض ترجیحی مقدمات میں وکیل اور قانونی معاون خود قانونی مدد دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ آمدنی اور اثاثہ جات کی حد درست پائی جاۓ، دیکھیۓ قانونی مدد کا قانون § 11 حصہ اوّل اور دوم۔ بعض دوسرے کیسوں میں مؤکل یا وکیل ریجنل کمیشنر، عدالت یا انتظامیہ کے متعلقہ ادارے کو مدد کی درخواست دے سکتے ہیں۔
مفت قانونی مدد کی درخواست
عام اصول یہ ہے کہ مفت قانونی مشورے کی درخواست اس ریجن (fylket) کے ریجنل کمیشنر کو دی جاتی ہے جہاں درخواست گزار کی رہائش ھو یا جہاں وہ کچھ عرصے سے مقیم ھو۔ البتہ بیرون ملک سے مفت قانونی مدد کی درخواست ہمیشہ fylkesmannen i Oslo og Akershus کو بھیجی جاتی ہے۔ قانونی مدد کے ان کیسوں میں جن کا فیصلہ کوئی عدالت یا انتظامیہ کا کوئی خاص ادارہ کرتا ھو، درخواست اس عدالت یا انتظامی ادارے کو بھیجی جاۓ جو اس مادّی کیس پر کاروائی کرے گا یا کر رہا ھو۔۔ درخواست کے مندرجات کے بارے میں تفصیل جاننے کیلۓ ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کا یہ سرکلر دیکھیں rundskriv G-12/05 pkt. 2.5
مالی شرائط
مفت قانونی مدد کیلۓ بنیادی شرط یہ ہے کہ درخواست گزار کی مجموعی آمدنی 000 230 کرونر سے زیادہ نہ ھو، حوالہ قواعد بسلسلہ قانونی مدد §1-1۔ مجموعی آمدنی کی تشریح کیلۓ یہ حوالہ دیکھیں G 12 / 2005 pkt 3.1۔ اس سلسلے میں سالانہ آمدنی کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ جس آمدنی پر ٹیکس نہ دیا جاتا ھو، اسے شمار نہیں کیا جاۓ گا۔ اپنے مالی حالات کے بارے میں اس فارم پر معلومات فراہم کریں egenerklæringsskjema اور سالانہ ٹیکس حساب (selvangivelse)، تنخواھوں کی رسیدوں یا وظیفہ جات کی ادائیگی کے کاغذات اس فارم کے ساتھ لگا کر پیش کریں۔
شادی شدہ جوڑے اور دوسری صورتوں میں ساتھ رہنے والے افراد جن کے مالی معاملات اکٹھے ھوں، ان کی مشترکہ آمدنی اور اثاثہ جات کو شمار کیا جاۓ گا۔ ان لوگوں کیلۓ آمدنی کی حد 000 345 کرونر ہے۔ مشترکہ مالی حیثیت کے قوانین ان شادی شدہ جوڑوں کیلۓ لاگو نہیں ھوتے جو یہ ثابت کردیں کہ وہ رسمی یا عملی طور پر علیحدہ ھو چکے ہیں۔
نیٹ اثاثہ جات کو 000 100 کرونر سے زیادہ نہیں ھونا چاہیۓ۔ اس سے زیادہ مالیت کے اثاثہ جات کی صورت میں جیسے مکان، تفریحی کاٹج، کار اور تفریحی موٹر بوٹ وغیرہ کیلۓ گذشتہ ٹیکس کے فائنل حساب کے مطابق اثاثے کی مالیت کو بنیاد بنایا جاۓ گا۔ البتہ ذاتی رہائش کے گھر یا روزگار کیلۓ استعمال ھونے والے نارمل مالیت کے سازوسامان کیلۓ مستقل عملی طریقہ یہ ہے کہ انہیں اثاثہ جات کی حد جانچنے کیلۓ شمار نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شادی شدہ شخص کو ترکے میں نقد حصہ ملے اور یہ رقم ایک معقول عرصے کے اندر اندر کلّی یا جزوی طور پر رہائشی مکان کیلۓ استعمال کر لی جاۓ تو اس نقد رقم کو مکان میں بندھا ھوا تصور کیا جاتا ہے۔
کس نوعیت کے مقدمات میں مفت قانونی مدد دی جا سکتی ہے
قانونی مدد کے قانون میں کیسوں کی ان اقسام میں تمیز کی جاتی ہے: ترجیحی کیس جن کیلۓ مالی وسائل نہیں جانچے جاتے، وہ ترجیحی کیس جن میں مالی وسائل جانچے جاتے ہیں اور غیر ترجیحی کیس۔ جن کیسوں میں وسائل نہیں جانچے جاتے، ان میں درخواست گزار کے مالی حالات سے قطع نظر، یعنی درخواست گزار کی آمدنی اور اثاثہ جات شمار کیۓ بغیر، مدد عطا کی جاتی ہے۔
قانونی مدد کے قانون § 11 حصہ اوّل،§ 16 حصہ اول اور § 17 میں وہ ترجیحی مقدمات مذکور ہیں جن کیلۓ مالی وسائل نہیں جانچے جاتے۔ یہ ایسے مقدمات ھوتے ہیں جو فرد کیلۓ بہت اہم ھوں جیسے تحفظ بچگان کے مقدمات، غیر ملکیوں کے مقدمات، ہرجانہ اور ناحق سزا پانا، مجرم کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ، قریبی شخص کی طرف سے تشدّد اور جبری شادی۔ اس زمرے میں جبری تعمیل کے مقدمات اور فوجی سروس سے انکار کے مقدمات وغیرہ بھی شامل ہیں۔
جن ترجیحی کیسوں میں مالی وسائل جانچے جاتے ہیں، ان کی فہرست § 11 حصہ دوم نکتہ 1 تا 7، دیکھیۓ،§ 16 حصہ دوم میں دی گئ ہے۔ ان میں ازدواجی مقدمات ، ترکہ اور اولاد، ذاتی ضرر، رہائش گاہ یا ملازمت سے ناجائز برطرفی، تشدّد کا نشانہ بننے کی وجہ سے ہرجانہ اور وظیفے کے معاملے میں شکایات کے مقدمات شامل ہیں۔
دیگر نوعیت کے مقدمات میں استثنائی صورتوں میں قانونی مدد دی جاسکتی ہے جبکہ مقدمہ ترجیحی مقدمات سے مماثلت رکھتا ھو یا درخواست گزار اس سے انتہائی طور پر متاثر ھو رہا ھو، دیکھیۓ قانون کا § 11 حصہ سوم اور§ 16 حصہ سوم۔
ذاتی ادائیگی (Egenandel)
ان مقدمات میں ذاتی طور پر کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑتی جن میں وسائل جانچے بغیر یعنی درخواست گزار کی آمدنی اور اثاثہ جات سے قطع نظر مفت قانونی مدد دی جاتی ھو۔ جس شخص کو وسائل کی جانچ کی بنا پر مفت قانونی مدد ملے اور جس کی مجموعی سالانہ 000 100 کرونر یا اس سے زیادہ ھو، اسے مدد لینے کیلۓ ذاتی ادائیگی کے ضمن میں کچھ رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ ذاتی ادائیگی سے چھوٹ حاصل کرنے یا اس میں کمی کروانے کیلۓ درخواست نہیں دی جا سکتی۔
ذاتی ادائیگی کا تعین سرکاری فیس کی شرح کے مطابق کیا جاتا ہے جو یکم جنوری 2007 سے 825 کرونر ہے۔ مفت قانونی مشورے کے کیسوں میں ذاتی ادائیگی فیس کے برابر ہے تاہم مقدمے کی مفت کاروائی کیلۓ اخراجات کا 25 ٪ خود ادا کرنا پڑتا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد فیس کی پانچ گنا رقم کے برابر ہے یعنی 4125 کرونر۔ ذاتی ادائیگی پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔
ذاتی ادائیگی وکیل کے یہاں کی جاتی ہے اور عام اصول یہ ہے کہ یہ رقم پیشگی ادا کی جاتی ہے۔
